بنگلور8/جنوری (ایس او نیوز) سوشیل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہورہی ہے جس کے مطابق عوام اُن لوگوں کو واپس جائو کے نعرے لگارہے ہیں جو شہریت ترمیمی قانون کی حمایت میں گھر گھر جاکر مہم چلانے کے لئے آئے تھے اور بی جے پی کی طرف سے جاری کئے گئے ایک موبائل نمبر پر لوگوں کے موبائل سے مس کال کرانے کی کوشش کررہے تھے۔ وڈیو میں لوگوں کو کنڑا میں نعرے بازی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ یہ وڈیو بنگلور کے کسی علاقہ کی ہے جہاں عوام نے مبینہ بی جے پی کارکنوں کو اپنے علاقہ میں مہم چلانے کی غرض سے آتے ہی نعرے بازی کرنا شروع کردیا اور اُن کارکنوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا۔
خیال رہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے سی اے اے ، این ار سی اور این پی آر قانون کی نہ صرف ملک بھر میں مخالفت کررہے ہیں اور احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں، بلکہ اب یہ معاملہ عالمی سطح تک پہنچ چکا ہے اور دیگر ممالک میں بھی بسے بھارتیوں کی بڑی تعداد ان قانون کو ماننے سے انکار کررہی ہے اور اُس کے خلاف احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ سماج کا ہر طبقہ اس قانون کو بھارت کے بنیادی قوانین کے خلاف مانتا ہے۔
ایک طرف حکومت عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے اور احتجاج کرنے والوں پر جھوٹے مقدمات درج کراتے ہوئے اُنہیں احتجاج سے باز رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے تو وہیں بی جے پی کارکنوں کی طرف سے متعلقہ قانون کی حمایت میں ریلیاں اور گھر گھر مہم چلانے کے واقعات بھی ہورہے ہیں، ان سب کو دیکھتے ہوئے عوام محسوس کررہے ہیں مودی اور امت شاہ کی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے، اب احتجاجی اپنی ریلیوں اور احتجاجی جلسوں میں کاغذ نہیں دکھائیں گے کے نعرے بھی بلند کررہے ہیں اور حکومت پر واضح کررہے ہیں کہ بھلے ہی وہ ان قوانین کو نافذ کرنے کی کوشش کریں، مگر عوام ان قوانین نہیں مانیں گے اور اس کے لئے درکار کاغذات سرکاری حکام کو نہیں دکھائیں گے۔